کہانیوں کے متلاشی

ہم کہانیوں کے متلاشی جانے کس جُستجو کی تِشنگی بُجھانے کے سفر پہ ہیں یہ تو نہیں معلوم ، لیکن ہماری تلاش ہمیں نئی کہانیوں کے رستے ضرور ڈال دیتی ہے۔ اُن راستوں پہ ہم سب کُچھ سمیٹتے ہیں، جذبات کی آڑ میں سب مِلتا ہے: مُحبت، نفرت، دھوکا، منافقت، حق، اور شاید مزید حق کی جستجو اور اِن سب جذبات کا منّبہ جھوٹ۔ اور پھر ایسے کسی راستے پہ ہمارا سامنا کسی ایسی کہانی سے ہو جاتا ہے جو ہماری زندگیوں میں قیام کو آتی ہے، ہماری زندگی کا حصّہ بننے کو آتی ہے۔ یہ کہانی ہماری بے جوڑ کہانیوں کو رنگ و روپ دیتی ہے۔ سنوارتی ہے۔ ٹھہراؤ لاتی ہے۔ اور پھر ہمیں اپنا عادی بنا کر ایک دِن یوں روپوش ہو جاتی ہے جیسے اِس کی حقیقت ہمارے تصور سے زیادہ کُچھ نہ تھی، اور ہم اپنے تصور کو حقیقت بنانے نکل پڑتے ہیں، دیوانہ وار پھرتے ہیں، جنگلوں، بیابانوں، اور صحراؤں کا سفر کرتے ہیں۔ ہم محلوں کی گلیوں اور بازاروں کی راه داہداریوں میں دُھندلاتے چہروں میں اپنی کہانی کا عکس ڈھونڈتے ہیں۔ ہر در ٹٹولنے کے بعد جب ہم کسی ایسے لمحے میں ارداہِ مصمم کر لیتے ہیں کہ اب اور نہیں، اب یہی زندگی ہےکہ بیٹھے رہیں گے تصورِ جاناں کیے ہوئے! ابھی ہمارے دل و دماغ نے سکون کے دروازوں پہ دستک دینے کی ٹھانی ہی ہوتی ہےکہ اچانک ہماری کھوئی ہوئی داستان ہمارے سامنے آکھڑی ہوتی ہے، ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے، ہمارا گریبان پکڑے جھنجھوڑتی ہے کہ بتا! یہ تھی تیرے عشق کی حقیقت، یہ تھی تیری جستجو کی صداقت، کہ میں نے ذرا دیر کو پرده پوشی کیا اختیار کی تُو چل پڑا سکون کی تلاش میں؟ کہ میاں اب یہاں سے تیرا راستہ، تیرا سفر میرے حوالے۔۔۔۔

Advertisements